18 جنوری 2013 - 20:30

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کےرکن بعض مغربی ممالک اوران کےاتحادیوں کی جانب سے جنگی جرائم کی عالمی عدالت میں شام کی فائل بھیجنےکی کوشش ناکام ہوگئی ہے۔

ابنا: مذکورہ ممالک نےاپنےمنصوبےکوجامہ پہنانےکےلئے حمایت حاصل کرنے کےلئےاٹھاون ملکوں کےدستخط اکٹھاکئےتھے ۔ جمعہ کےدن بندردروازوں کےپیچھےہونےوالےسلامتی کونسل کےاجلاس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہائی کمشنرنیوی پیلائےنے اس اجلاس میں شرکت کی اورشام میں انسانی حقوق کی صورت حال کےبارےمیں رپورٹ پیش کی ۔ جیساکہ سلامتی کونسل کےپاکستانی چیئرمین مسعودخان نے کہاہےکہ مذکورہ کونسل کےپندرہ اراکین کےدرمیان آئی سی سی کےبارےمیں اختلاف ہے جس کی وجہ سے سلامتی کونسل کے جمعہ کےدن ہونےوالااجلاس بغیرکسی نتیجےکےختم ہوگیا۔اقوام متحدہ میں روس کےنمائندےویتالی چورکین نے اجلاس کےبعد کہاکہ ان کاملک مذکورہ قرارداد کامخالف تھا۔ چورکین نےکہاکہ اس طرح کاقدم اٹھانےکےلئےیہ وقت مناسب نہيں ہے ۔ ان کےبقول اس طرح کےاقدامات سے بحران شام کوسیاسی طریقہ سےحل کرنےکی کوششوں کونقصان پہنچےگااوربحران شام کےسیاسی راہ حل کےخاتمےکاامکان کمزورہوجائےگا۔اقوام متحدہ میں روس کےنمائندےنےکہاکہ ماسکوکی نظرمیں شام کامعاملہ جنگی جرائم کی عدالت میں بھیجنےسےاس ملک کابحران شدیدہوجائےگا۔البتہ اقوام متحدہ کےانسانی حقوق کےکمشنرکی درخواست میں طرفین کی طرف سےجنگی جرا‏ئم کےارتکاب اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کےواقعات کاجائزہ لینےکی ضروت کی بات کی گئی ہے۔لیکن مغربی ممالک نے بارہا سلامتی کونسل سےیکطرفہ فائدہ اٹھانےمیں اپنی مہارت کاثبوت دیا ہے ۔ اس بنا پر اس بات کی پیش گوئی بھی کی جاسکتی ہےکہ ائی سی سی شامی صدربشاراسد پردباؤ ڈالنےکےایک ہتھکنڈےمیں تبدیل ہوسکتاہے۔شام میں فوجی مداخلت کےلئے سلامتی کونسل سے اجازت لینےکےلئےمغربی ممالک کی باربارکی کوششیں روس اورچین کی استقامت سےناکام ہوگئي ہيں۔ شام کامعاملہ جنگی جرائم کی عدالت میں اٹھانےکےمسئلےکوبشاراسدکےخلاف عالمی برادری کومتحدکرنےکی کوشش سےتعبیرکیاجاسکتا ہے۔شام نے اس عدالت کےآئین پردستخط نہيں کئےہيں اوراس کارکن شمارنہيں ہوتا۔ اس بناپرصرف سلامتی کونسل کےووٹوں سےہی دمشق کےخلاف کوئی معاملہ کھڑاکیاجاسکتاہے اوراسےآئی سی سی سےروجوع کیاجاسکتاہے۔ سفارتی ذرائع کاکہناہےکہ سلامتی کونسل میں صرف روس اورچین ہی مخالفت نہيں کررہے ہيں ۔ بلکہ سلامتی کونسل کےپندرہ اراکین کےدرمیان صرف فرانس اوربرطانیہ نےمستقل رکن کی حیثیت سےاورآسٹریلیا،لگزمبرگ اورجنوبی کوریا نےغیرمستقل رکن کی حیثیت سے ایک مشترکہ بیان میں اپنی مدنظرقرارداد پراختلاف پرافسوس ظاہرکیاہے اوربشاراسدحکومت کوکٹگھرےمیں کھڑےکرنےکی کوششیں جاری رکھنےپرتاکیدکی۔ بظاہرسلامتی کونسل کےاکثراراکین اس نتیجےپرپہنچ رہے ہيں کہ شام میں اسد کی حکومت گرانےکےلئےفوجی راستےکی افادیت ختم ہوچکی ہے اورفوجی مقابلہ آرائی کاتسلسل ممکن ہےمشرق وسطی میں بڑے پیمانےپربدامنی پھیلنےکاسبب بنے ۔اس کےعلاوہ شام کےمتحارب گروہ جنھیں مغرب کی طرف سےتسلیم کیاجاچکاہے ، ان میں کوئی نظم نہيں ہےحتی مغربی ذرائع ابلاغ بھی ان کےہاتھوں عوام کےقتل عام اورلوٹ گھسوٹ کی رپورٹیں دےرہے ہيں۔

.....

/169